ڈراما بازی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - جھگڑے، اختلاف، ہنگامہ آرائی۔ مسلمانوں کی یونیورسٹی . مگر افسوس اور صد افسوس کہ . وہی طرزِ تعلیم، وہی زیادتیِ مصارف، وہی بکر کود وہی ڈراما بازیاں، وہی بلکہ اور زیادہ بڑھی ہوئی فیشن طرازیاں۔"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٥:١٥ )

اشتقاق

انگریزی زبان سے اسم 'ڈراما' کے ساتھ فارسی مصدر 'باختن' سے فعل امر 'باز' بہ اضافہ 'ی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٩٣٥ء میں "اودھ پنچ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جھگڑے، اختلاف، ہنگامہ آرائی۔ مسلمانوں کی یونیورسٹی . مگر افسوس اور صد افسوس کہ . وہی طرزِ تعلیم، وہی زیادتیِ مصارف، وہی بکر کود وہی ڈراما بازیاں، وہی بلکہ اور زیادہ بڑھی ہوئی فیشن طرازیاں۔"      ( ١٩٣٥ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٢٠، ٥:١٥ )

جنس: مؤنث